Motivational Columns
Motivational Lines
Admin  

Motivational Columns By Misbah Chaudhary Episode 6 t0 10

Some lines of this episodes have also been uploaded to my Facebook group and I am the owner of this episodes. This episode is being uploaded on this website with my permission. Now I want to upload this episode on google.

قسط نمبر: 6( منصوبہ سازی )

ہم انسان اپنی منصوبہ سازی پہ ناز کرتے ہیں ہمیں لگتا ہے کہ ہم میں ہی طاقت ہے ہواؤں کے مخالف اڑنے کی دریاوں کا رخ موڑنے کی اور کشش ثقل کو دھوکا دینے کی. جب اپنی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ لیتے ہیں دنیا میں اپنا لوہا منوا لیتے ہیں پھر جب سمجھ آتی ہے کبھی سردیوں کی تنہا راتوں میں گرمیوں کی کڑی دوپہر میں بہار میں سجے گلستانوں میں یا پت جھڑ میں خشک پتوں پہ چلتے ہوئے تب احساس ہوتا ہے

کہ ہمارا کمال تو تھا ہی نہیں ہمیں تو گزارا جا رہا تھا ان اونچے نیچے پتھریلے نکیلے رستوں سے اور ہم تو بس گزر رہے تھے کبھی ان رستوں کا رہنما رحمان تھا اور کبھی ہم نے شیطان کا ہاتھ تھاما تھا. مگر جو بھی تھا ہمارے لیے حالات بنائے گئے تھے سازگار اور ناسازگار اور بس چلے تھے خوش گمانیوں, بد گمانیوں, پختہ عزم کے ساتھ یا پھر ٹوٹتے بکھرتے حوصلوں کے ساتھ…اور ہمارے حصے میں فقط مسافت تھی…پیدائش سے موت تک کی مسافت

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 7( بوڑھاپا )

بوڑھاپا ماپنے کے بھی پیرامیٹرز ہوتے ہیں سالوں کی گنتی عمروں کا تعین نہیں کرتی. کوئی ساٹھ میں جوان ہوتا اور کوئی پچیس میں بھی بوڑھا. جب انسان محفلوں میں تنہا ہو جائے.جنکو پسند کرتا تھا انہیں ملنے سے کترانے لگے جب ہر سو حسرتوں, محرومیوں, ملامتوں اور ندامتوں کے ڈیرے ہوں, جب ہنسی سے بے ساختگی ختم ہوجائے, تلاشِ عشرت کدہ کی جگہ تلاشِ گوشیه عافیت لے لے اورجب ذات میں ٹھہراؤ اور فیصلوں میں ماضی کے اسباق شامل ہوجائیں تو سمجھ لینا چاہیے

کہ جوانی کہیں پیچھے رہ گئی ہے اب بڑھاپا کہیں اندر گھر کرنے لگا ہے.تب حاصل ہستی کو جانچا جاتا ہے اور پھر سمجھ آتا ہے کہ کتنے ایامِ کارآمد غفلت و عجلت کی نظر کر دیئے. تب وقت کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے رشتوں کے لیے دی گئی قربانیاں اور رشتوں کا استعمال یاد آتا ہے. تب ایک زندگی میں کئی زندگیاں جینے کی رمز سمجھ آتی اور موت کے انتظار میں کئی بار مرنے کہ اذیت آشکار ہوتی ہے.

پھر ان لوگوں کی زندگی پہ رشک آتا ہے جو آخری دم تک جیتے ہیں اور آخری سانس تک جوان رہتے ہیں. جو جنکا حاصل کبھی لاحاصل نہیں ہوتا..اور وہ جو لذت گناہ اور وجود کی قید سے مبرا ہوتے ہیں…وہی جو بندگی کے فلسفے کو سمجھتے ہیں. اور ہر حکم پہ لبیک کہتے ہیں… وہی تو اشرف ہیں

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 8( سوچیں )

سوچیں بھی الجھے ہوئے ریشم جیسی ہیں ایک سرے کو پکڑتی ہوں تو دوسرا نہیں ملتا..جتنا سوچتی جاتی ہوں الجھتی جاتی ہوں. کچھ اندیشے ہیں جو دل کے نرم گوشوں میں مانندِ نشتر اترتے جا رہے ہیں, کچھ خوف ہیں جو ناگ کے زہر کی مانند میرے رگ وجاں میں سرایت کیے جا رہے ہیں اور کچھ وسوسے ہیں جو عاجز کیے جارہے ہیں..الفاظ بکھرے ہیں تخیل میں خلل ہے

اور قلم گھائل..لکھوں تو کیا لکھوں؟؟؟ کشکول لیے سوچوں کے در کھٹکھٹاتی ہوں لفظوں کو صدائیں لگاتی ہوں مصرعوں کے پاوں پکڑتی ہوں مگر ایسا کوئی لفظ نہیں اترتا جو سراپا راحت ہو…. شاید یہی قحط ہے…..ادب کا قحط آداب کا قحط… علم کا قحط عمل کا قحط… جذبہ و جنون کا قحط… یا پھر راحت و سکون کا قحط….. صرف قحط ہی قحط ہے…ہر سو ہر جا قحط

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 9( ہمارا دل )

میں کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ ہمارے ہاتھ کیوں نہیں کانپتے ہمارا دل کیوں نہیں لرزتا ہم پہ غشی طاری کیوں نہیں ہوتی ہم اپنے حواس کیوں نہیں کھوتے کب ہم موت قیامت جہنم جیسے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں. ہم کتنے آرام سے کہہ جاتے ہیں ایسی زندگی سے موت بہتر… کوئی تکلیف آجائے تو ہمارا رونا ہوتا کہ قیامت آگئی, کوئی مصیبت آن گھیرے تو ہمیں لگتا کہ یہ عذاب ہے اور ناپسندیدہ حالات کو ہم بڑی فراخدلی سے جہنم کہہ کر بیٹھ جاتے ہیں. کبھی سوچا ہی نہیں کہ موت کو گلے لگانے والے کب کسی اور کو گلے لگا پاتے ہیں کب بتا پاتے ہیں کہ یہ کیا ہے

اسکا ذائقہ اسکی اذیت کیسی ہے. کب زندہ بچتے ہیں اسکے بارے بتانے کے لیے. اور وقت شاہد ہے کہ جس قوم پہ عذاب اترا وہ تاریخ کے اوراق میں قصہ پارینہ کے سوا کچھ نہیں. جہنم جسکے بارے قرآن کہتا ہے کہ رہنے کے لیے سب سے بری جگہ ہے ہم کیسے وقتی آزمائش کو اس سے تشبیہ دے سکتے ہیں کبھی غور تو کریں کہ قیامت کی منظر کشی جو قرآن نے کی وہ اتنی ہولناک ہے کہ رونگٹے کھڑے ہو جائیں سانس اکھڑ جائے اور ہم کیسے کسی شعر میں کسی ایک واقعہ پہ حشر بپا کر سکتے ہیں حتی کہ وہ واقعہ ہماری کمزور یاداشت چند دنوں بعد بھلا چکی ہوتی ہے

کچھ چیزوں کچھ جگہوں اور کچھ وعدوں کا خوف اور ہیبت لفظوں میں بیان نہیں ہوسکتی تشیبہ دینا تو دور کی بات…ہ

مگر ہم نے ان الفاظ کو استعمال اتنا بے دریغ کیا ہے کہ اب کی ہولناکی ہمارے دل و دماغ سے نکل گئی ہے…مگر یاد رکھیں…موت ہو کہ عذاب یا قیامت

کہنا بہت آسان ہے مگر سہنا آسان نہیں ہے

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 10( اے انسان )

اے انسان مجھے خوف آتا ہے. تیری جذباتی محبت کے دعووں سے, کہ جسکی حقیقت ایک خود فریبی کے سوا کچھ نہیں ہے. تیری پسند کا کاسہ تیری حرص کے ہاتھ میں ہے یہی وجہ ہے کے توں نے مٹی سے محبت کا دعوی کیا تو اسے بنجر کرتا گیا, درختوں کی انسیت میں گرفتار ہوا تو جنگلوں سے محروم ہوتا گیا, جانوروں کے لیے تیری چاہت انکے بے گھر ہونے کی صورت میں ظاہر ہے

میں کیسے یقین کر لوں تیری محبت کا, کہ توں بڑا منکر ہے

بارشوں کو قدرت کی محبت کہنے والے.تم تو بارشوں کے ڈر سے کمروں کی اوٹ میں چھپ جاتے ہو.. ہوا کو زندگی کہنے والے آندھیوں پہ دروازے بند کر لیتے ہو

درحقیقت تم محبت نہیں چاہتے تم فقط اپنی انا کی تسکین چاہتے ہو بارش تمھاری چاہت میں جب زمین بوس ہوتی ہے تو اسکا یہی گڑگڑانا تمھارے دل کو بھاتا ہے. ہوائیں سر توڑ تمھاری محبت میں جب کھڑکیوں کےکواڑوں پہ دم توڑ جاتی ہیں تو تمھارے اندر کا خدا انکے زیر ہونے پہ بہت سیر ہوتا ہے

تم نے نفس کے بت کو ہمیشہ خواہشوں کی شدھانجلی دی ہے.  تم نے سیری کی ہی چاہ کی ہے پھر بھلے وہ پیٹ کی ہو یا جذبات کی. تم نے کب جانا نفس کی تربیت کے لیے بھوک کتنی ضروری ہے. بھرا ہوا پیٹ بپھرے سانڈ کی طرح ہوتا ہے جس کو نہ سدھایا جا سکتا ہے نہ نکیل ڈالی جا سکتی ہے.

انسانیت کی بنیاد سے نا واقف تم ہمیشہ سوداگر رہے کبھی اپنا پیٹ بھرنے کا سودا کیا تو کبھی جذبات کی آگ بجھانے کے لیے کسی کا پیٹ بھرا

توں نے ثابت کر دیا کے تیرا سب سے بڑا مسئلہ بھوک ہے,….. وہی بھوک جسکی وجہ سے جنت سے نکلا, وہی بھوک جسکی وجہ سے اشرف ہونے سے ہاتھ دھویا اور وہی بھوک جس نے تجھے محبت کے مفہوم سے ناآشنا کیا

مصباح چوہدری

Leave A Comment