Motivational Columns By Misbah Chaudhary Episode
Motivational Lines
Admin  

Motivational Columns By Misbah Chaudhary Episode 46 to 48

Some lines of this episodes have also been uploaded to my Facebook group and I am the owner of this episodes. This episode is being uploaded on this website with my permission. Now I want to upload this episode on google

قسط نمبر: 46(ڈھلتا ہوا سورج)

ہم بھی کبھی یونہی ڈوب جائینگے اپنے اندر کئی ارمان لیے, جنکو کبھی زبان نہیں ملی, جنکا وجود ہمارے وجود پہ پلنے والے بیکٹیریا کی طرح ہے

 ہماری ڈگریز کسی پرانے صندوقوں میں فیسوں کی رسیدوں کی مانند پڑی رہ جائینگی. ہماری نوکریاں جن پہ ہمیں مان ہے ان کرسیوں پہ کوئی اور وقت کا فرعون بنا بیٹھا ہوگا اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا

 ہر دن ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم دائمی نہیں ہیں آنیوالے دنوں میں ہم صرف گزرا ہوا کل ہوں گے. یہ فیصلہ ہمارا ہے کہ ہم کب تک زندہ رہنا چاہتے ہیں اپنے کام, الفاظ اور کردار کی صورت

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 47(ڈیجیٹل لو)

نہیں معلوم یہ دیوانہ پن کیسا ہے جس میں محبت جھاگ کی طرح لفظوں میں بہہ رہی ہے. لوگ سٹینڈ بائی پہ رکھے فون کی مانند بہترین آپشنز بنتے جا رہے ہیں

 جسم کے لاوے کی پرستش میں برف لہجے آسانی ہے بلاک یا کک آؤٹ کیے جا سکتے ہیں

فراغت کے لمحوں میں موبائل سکرین پہ جگمگاتے نام تب تک اہم ہوتے ہیں جب تک  کوئی ان سے بہتر آپشن نہ  آ جائے

 لمس کی حدت اور جذبوں کی شدت لفظوں کی محتاجی میں سگنلز کے زیر سایہ سر پٹختی رہتی ہے. وفا کی گدگدی کال کی کسی دھن پہ تھوڑی دیر تو اپنا اثر دکھاتی ہے

مگر “موجودہ صارف فی الوقت میسر نہیں” کے بولوں کے ساتھ ہی یہ کسی وحشت کی نظر ہو جاتی ہے

 اور لوگ جنون کے جنگلوں میں پاگلوں کی طرح اپنے سروں میں خاک ڈالتے نکل جاتے ہیں اور یوں بزم و رزم میں آگ یخ بستگی کی حد تک پہنچ جاتی ہے

ایک ڈیجیٹل لو سٹوری کا نیٹ ورک ہمیشہ کے لیے بند ہوجاتا ہے

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 48(کبھی کبھی)

کبھی کبھی انسان کو خود تک پہنچنے کے لیے کئی لوگوں سے ہو کے گزرنا پڑتا ہے. انکی دھتکار انکا منہ موڑ لینا, بیچ راستے ساتھ چھوڑ دینا, مجبوریوں کی چادر میں لپٹ جانا, ہمیں ہمارے احساس محرومی سے روشناس کرواتے رہنا 

اور ساتھ دینے کے نام پہ ہماری ناکامی کے اشتہار لگا دینا ہی اصل میں ہمیں خود کی طرف قدم بڑھانے پہ مجبور کرتا ہے 

ایسے میں انسان کے پاس دو راستے بچتے ہیں

 کہ یا تو خود کو وقت دے محنت کرے اپنے اندر کی طاقت کو پہنچانے اور منزل کو سہاروں کے بغیر پا لے 

یا پھر محرومی اور دوسروں کے رویے کی سزا خود کو دے کر ناکامی کو گلے لگا کر مایوسی کی گود میں ہمیشہ کے لیے سو جائے. فیصلہ ہمیں خود کرنا ہوتا ہے…. مگر یاد رکھیں

اپنا بوجھ خود ہی اٹھانا پڑتا ہے آپکی بہتری میں کردار ہو کے آپکے دکھ بانٹنا.کوئی بھی روز روز نہیں سنتا

منہ موڑ لیتے ہیں سب.لہذا خود کا ہاتھ تھامے اپنے کندھے پہ سر ٹکائے اپنا لمس محسوس کریں اپنا حوصلہ ہم خود ہیں کوئی اور نہیں..دوسروں کے لیے ہم صرف بوجھ ہوتے ہیں وی بھی ان چاہا

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 49(کبھی کبھی)

میں کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ ہمارے ہاتھ کیوں نہیں کانپتے ہمارا دل کیوں نہیں لرزتا ہم پہ غشی طاری کیوں نہیں ہوتی ہم اپنے حواس کیوں نہیں کھوتے کب ہم موت قیامت جہنم جیسے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں

 ہم کتنے آرام سے کہہ جاتے ہیں ایسی زندگی سے موت بہتر… کوئی تکلیف آجائے تو ہمارا رونا ہوتا کہ قیامت آگئی, کوئی مصیبت آن گھیرے تو ہمیں لگتا کہ یہ عذاب ہے 

اور ناپسندیدہ حالات کو ہم بڑی فراخدلی سے جہنم کہہ کر بیٹھ جاتے ہیں. کبھی سوچا ہی نہیں کہ موت کو گلے لگانے والے کب کسی اور کو گلے لگا پاتے ہیں کب بتا پاتے ہیں کہ یہ کیا ہے 

اسکا ذائقہ اسکی اذیت کیسی ہے. کب زندہ بچتے ہیں اسکے بارے بتانے کے لیے. اور وقت شاہد ہے کہ جس قوم پہ عذاب اترا وہ تاریخ کے اوراق میں قصہ پارینہ کے سوا کچھ نہیں

 جہنم جسکے بارے قرآن کہتا ہے کہ رہنے کے لیے سب سے بری جگہ ہے ہم کیسے وقتی آزمائش کو اس سے تشبیہ دے سکتے ہیں کبھی غور تو کریں کہ قیامت کی منظر کشی جو قرآن نے کی وہ اتنی ہولناک ہے 

کہ رونگٹے کھڑے ہو جائیں سانس اکھڑ جائے اور ہم کیسے کسی شعر میں کسی ایک واقعہ پہ حشر بپا کر سکتے ہیں حتی کہ وہ واقعہ ہماری کمزور یاداشت چند دنوں بعد بھلا چکی ہوتی ہے

کچھ چیزوں کچھ جگہوں اور کچھ وعدوں کا خوف اور ہیبت لفظوں میں بیان نہیں ہوسکتی تشیبہ دینا تو دور کی بات

مگر ہم نے ان الفاظ کو استعمال اتنا بے دریغ کیا ہے کہ اب کی ہولناکی ہمارے دل و دماغ سے نکل گئی ہے…مگر یاد رکھیں…موت ہو کہ عذاب یا قیامت

کہنا بہت آسان ہے مگر سہنا آسان نہیں ہے

مصباح چوہدری

Leave A Comment