Motivational Columns
Motivational Lines
Admin  

Motivational Columns By Misbah Chaudhary Episode 42 to 45

Some lines of this episodes have also been uploaded to my Facebook group and I am the owner of this episodes. This episode is being uploaded on this website with my permission. Now I want to upload this episode on google

قسط نمبر: 42(سگنل)

سگنل لاہور کے ہوں یا پھر اسلام آباد کے. ان سے جڑی کہانیاں ہمیشہ ہی توجہ کا مرکز رہی ہیں. گداگروں کی بہتات ایک عجیب سی فضا قائم کر دیتی ہے جہاں تعفن زدہ انسانیت کی بو سے ناک کے نتھنے پھٹنے لگتے ہیں

 ان سگنل پہ اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ڈولی, لاجو, رانی, پپو اور شہزادی یوں تو عوام میں اپنے میک اپ اور اداؤں کی وجہ سے جانے جاتے ہیں مگر ان میں کئی خاک نشین وطن کی حفاظت کے لیے بھی معمور ہوتے ہیں اور کچھ کا تعلق بس مانگنے, نشہ بیچنے اور جسم سے ہوتا ہے

 ایسے ہی ایک سگنل پہ میری نظر ایک بارہ تیرہ سالہ بچی پہ پڑی جسکے پاوں ننگے تھے اور سر پہ سلیقے سے لیا گیا آنچل جسم کو پوری طرح نمایاں کر رہا تھا. کچھ تھا اس بچی میں جو کسی طور بھی اسکو بچی سے بڑھ کے دکھا رہا تھا 

شاید وہ بچی کسی سے بچی نہیں تھی اسکا ڈھلکتا جسم چیخ چیخ کے اس پہ ہونے والے ظلم کی داستان بیان کر رہا تھا اور مردوں کو لبھانے والی اداوں نے خدا معلوم کب اس سے معصومیت چھین لی تھی 

اب وہ ایک گوشت کا لوتھڑا تھی پورے کپڑوں میں ڈھکا ننگا گوشت.جو چوراہے میں بھیڑیوں کے بیچ کھڑا انکو دعوت عام دے رہا ہو. ایک لمحے کو لگا کے کسی نے میرا ابایا اتار دیا ہو یا پھر میرے کپڑے نوچ ڈولے ہوں اور مجھے بیچ چوراہے ننگا کھڑا کر دیا ہو

 کیسا ظلم تھا کہ حیا بے حیائی کے لباس میں شرافت کا مذاق اڑاتے ہوئے حضرت انسان کے اشرف ہونے پہ لعنت بھیج کر پارسائی کے جہنم میں جل رہی تھی. مہندی سے سجے اسکے پاوں اور ہاتھ شرف کا خون دکھائی دے رہے تھے

 ہماری کتنی بچیاں کتنے بچے مکمل لباس میں برہنہ جسم لیے سڑکوں پہ پھرتے ہیں جہاں بہت سی نگاہیں انکا ریپ کرتی ہے. اور ہم صرف انکی تربت پہ موم بتیاں جلاتے ہیں. ایسی روشنیاں جن سے اندھیرا پھوٹتا ہے تاریکی مزید بڑھتی ہے. مگر کب تک آخر کب تک

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 43(میٹھا)

زندگی سے میٹھا نکال دیا جائے تو پیچھے صرف کڑواہٹ رہ جاتی ہے جس سے ہر تعلق ہر رشتہ بیزار ہو جاتا ہے…..  ہم نے تلخیوں میں مٹھاس بھرنے کی سوچی. ارادے کی تکمیل کے لیے گڑ, دیسی گھی, ناریل, تل اور مونگ پھلی کو آس کی ہلکی آنچ پہ پکایا اور پھر اعتماد کی عاری سے ٹکیاں کاٹ لی

 میٹھا کھائیے ضروری نہیں  ٹرائفل, کسٹرڈ, برآونی, کیک, پیسٹری یا مٹھائی کی صورت ہی ہو, یہ کینڈی, گڑ کی بھیلی, زردے کی پلیٹ یا کھیر کی کٹوری کی صورت بھی میٹھا ہی ہو گا

 جو گلوکوز کی شکل میں دماغ کو غذا دے گا اور آپ چڑ چڑے کم ہونگے…. ہاتھ اور زبان سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں گے..محبت بڑے گی..نفرت کم ہو گی….. سچی ایک بار آزما کے تو دیکھیں…. فائدہ نہ ہو تو میٹھا مجھے بھیج دینا

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 44(رات)

کچھ مہینے پہلے مہمانوں کی طرح آنیوالی یہ شہد کی مکھیاں آج گھر والی بن کے بیٹھی ہیں… تین بائی تین انچ کا چھتا آج ماشاءاللہ دس انچ سے بڑا ہے

 روز صبح میں ان سے ایک چمچ شہد مانگتی ہوں مگر مجال ہے ایک قطرہ بھی دیا ہو ہاں مگر سبق ضرور دیتی ہیں. ان سے میں نے سیکھا کہ شہد جیسی نعمت بہت سارے ڈنکوں کے حصار میں ملتی ہے

یعنی کامیابی ہمیشہ ناکامیوں کے درمیان پنپتی ہے. دوسری بات جو سیکھی وہ یہ کہ باہر سے رف نظر آنےوالے اندر بڑے خزانے رکھتے ہیں

 تیسری بات جو نہایت اہم ہے کہ چھوٹی چھوٹی کاوشیں بڑی تخلیق کا باعث بنتی ہیں

چوتھی چیز کہ کسی کے میٹھے بولوں پہ نا جاؤ اندر زہر ہو سکتا ہے اور نہ محض کرواہٹ یا بدصورتی کی وجہ سے پیچھے ہٹو کیونکہ اندر شہد ہو سکتا ہے

ہاں یہ مجھے چڑاتی بھی ہیں کہ میں اشرف المخلوقات ہوں پیدا ہوتے ہی خدائی صفات رکھنے والی مگر آج اپنی اس دولت سے اتنی محروم کہ مکھیاں شہد تک نہیں دیتیں

میری صبح کا ستارہ…ساری بیماریوں سے چھٹکارہ

نیم کی کڑوی کسیلی ٹہنیوں پہ لٹکی یہ قدرتی چاشنی محبت ہی محبت ہے

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 45(عورت)

عورت اعتبار کرنے کے معاملے میں بہت محتاط ہوتی ہے مگر جیسے ہی من پسند شخص سامنے آ جائے تو وہ سبھی اصول بالائے طاق رکھ کر خود کو ہار بیٹھتی ہے. روایات اور رسم رواج کے جال سے نکل کر جسم و جان محبوب کے قرب پہ نچھاور کر دیتی ہے

 مگر اگر وہی انسان بدل جائے, عزت کی چادر سر سے چھین لے, اسکا سایہ من جھلسانے لگے تو وہ چپ چاپ پیچھے ہٹ جاتی ہے. اپنے جذبوں کی صداقت کے بعد ہارنے کو کچھ نہیں رہتا اسکے پاس

عجیب ہے مگر ایسے میں وہ دکھ, تکلیف یا اذیت کی حدوں سے کہیں دور بے بسی کے سمندر میں غوطہ زن چپ کا چوغہ پہنے جوگن بنی اپنے ہی مزار پہ وقت کی دھول سے بھروسے کے کنکر چنتی رہتی ہے..مگر کبھی نہ اپنی ذات واپس پاتی ہے اور نہ اعتبار

مصباح چوہدری

Leave A Comment