misbah chaudhary
Motivational Lines
Admin  

Motivational Columns By Misbah Chaudhary Episode 38 to 41

Some lines of this episodes have also been uploaded to my Facebook group and I am the owner of this episodes. This episode is being uploaded on this website with my permission. Now I want to upload this episode on google.

قسط نمبر: 37(نیند کی وادی)

نیند کی وادی میں شاید کوئی خوابوں کا گلستاں تھا…اور میں پھول پھول چن رہی تھی… جبھی ننھی بوندوں نے ماتھے پہ بوسا دیا.. اور پھر سارا چہرہ اور ہاتھ انکی محبت کے سحر میں جکڑے گئے

دل کیا آنکھیں بند رکھے اس لمس کو دیر تک محسوس کروں…. قدرت اتنی مہربان کیسے ہے… ایسے کیسے ہم گنہگاروں پہ پیار آجاتا ہے اسے کے جسکی محبت برحق ہے… دل چاہ رہا ہے بارش کی ایک ایک بوند سمیٹ سمیٹ کے رکھ لوں محبت کا پہلا تحفہ مان کر

اور کسی ڈالی کی طرح ہوا کے دوش پہ جھومتی بادلوں کی تال پہ رقص کرتی تب تک ناچوں جب تک وہ مان نہ جائے… اور پھر اسکو پیار آئے..کہے پگلی کیوں کرتی ہو ایسا…ان سب انسانوں میں تم مجھے بہت عزیز ہو

 اور میں پورے لاڈ سے کہوں..یار کیا ہے.. میرے لیے تو تم ایک ہی ہو میری ساری محبت تم سے ہے…کیا تم میری اس ٹوٹی پھوٹی محبت کو قبول کرو گے..سنو ہنسی آئے تو ہنس لینا میرا پاگل پن ایسا ہی ہے

 تجھے لمحہ لمحہ چاہنے والا.تمھاری محبت کی قسم جو تمہارا محبوب ہے وہ مجھے جان سے بھی عزیز ہے میں اپنے آپ سے تجھے اور اسکو نکال دوں تو کچھ نہیں بچتا…بس توں قبول کر لے..مجھے اپنا کر لے فقط اپنا

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 38(بارشیں)

بارشیں بھی عجیب ہوتی ہیں آسمان سے گرتی بوندیں زمین کی محبت میں مبتلا ہوکر اسی کاحصہ بن جاتی ہیں.  مگر ہر زمین محبت کے اس تحفے کو سنبھالنے کے قابل نہیں ہوتی

 بارشیں اسے جتنا سیراب کر لیں اسکی فطرت میں زرخیزی نہیں ہوتی. کچھ زمینی ٹکڑے تو اس محبت کا رخ موڑ کر کسی اور طرف کر دیتے ہیں جبکہ کچھ بوند بوند خود میں سما کر بدلے میں خار دار جھاڑیاں اگلتے ہیں

 جن سے کسی کا دامن محفوظ نہ رہے. یہ کچھ خاص ہی ہوتے ہیں جو ان سے دل لبھانے والا سبزہ پیدا کرتے ہیں محبت کا جواب محبت سے دیتے ہیں. مٹی کی یہ خاصیتیں مٹی کے پتلے میں بھی پائی جاتی ہیں پیشانی میں اسم عظیم رکھنے والا مٹی کی فطرت سے باز نہیں رہ پاتا

 بلکہ اسکے اندر کی خیر اور شر ان خصوصیات کو مزید تقویت دیتے ہیں اور پھر وہ کبھی میانہ روی کا رستہ اختیار نہیں کر پاتا…. راستے سے بھٹکا ہوا نا معلوم مسافر… جسکا ہر قدم اصل کی منزل سے دور کرتا جاتا ہے…….بارشوں کے موسم میں الجھی سوچیں

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 39(لوبان کی خوشبو)

لوبان کی خوشبو جیسے اس تعلق کی وضاحت کو نہ جانے کتنے لا کھینچ لائی ہوں..

لازوال, لاثانی, لامحدود

مگر! اب سوچتی ہوں کے اگر تقدیر نے صرف ایک لا مقدر میں لکھ دیا “لاحاصل” تو میری ہر خوشی, چاہت, اقرار, اظہار, مسکراہٹ یہاں تک کے زندگی کے آگے بھی “لا” لگ جائے گا

اور اگر تم نے لاپرواہ ہو کر لاتعلقی کر لی تو شاید میرے لاتعداد جذبے لاکلام ہو کر لامعلوم و لامحسوس ہوجائیں

سنو اے سکون قلب و جاں

میرے لافنا جذبوں کو لاوارث کرنے سے پہلے بس اتنا سوچ لینا کے یہ لاقیمت ہیں, انکو کبھی لامرکزیت کی آگ میں نہ جھونکنا

یاد رکھنا…عشق سے پہلے لا لگ جائے تو بندہ لادین ہو جاتا ہے..اور لادین لازندگی سے ذیادہ اذیت ناک ہوتا ہے

اے زودِ من…..بس اتنی سی گزارش ہے تم میرے لیے ہمیشہ لامتناہی رہنا

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 40(کل دھواں تھا)

کل دھواں تھا جس نے ہم سب کی آنکھوں کو فقط چبھن بخشی مگر حضرت انسان کے حرص و ہوس اور عیاشی کی آگ مارگلہ کے نہ جانے کتنے پرندے, جانور اور درخت نگل گئی کوئی نہیں جانتا

 یقیناً کسی پرندے کے پیاسے لبوں پہ پانی کی صدا گونجی ہوگی, یقیناً کسی جلنے والے نے رحمت کو پکارا ہو گا…شاید موت کے کسی بہت قریبی لمحے میں کسی آنکھ سے گرتے آنسو سےکوئی خاموش التجا بلند ہوئی ہو

 جو سیدھے آسمان پہ جا کے رکی ہو.جبھی تو آج یوں بادل جھوم کے آئے.ڈالی ڈالی بھیگ گئی ہوا کے دوش پہ دوہرے ہوتے درخت خدا معلوم کس غم میں بین کر رہے تھے شاید کل کی آگ کے انکے بہت سے پرانے زخم ہرے کر دیئے ہونگے

دعا قبول ہوگئی مگر کچھ دعائیں قبولیت میں بہت دیر کر دیتی ہیں اور یہ دیرکئی زندگیاں نگل جاتی. ہم اس مصلحت کو سمجھنے سے قاصر ہیں.. یا شاید ہم بہت کمزور لوگ ہیں..اپنی غلطی اور گناہ کا نہیں سوچتے مگر جب نقصان کا عمل شروع ہوتا ہے

 تو اللہ پاک سے گلہ ضرور کرتے ہیں کے وقت پہ مدد نہیں کی…. کاش یہ سوچ ہم میں گناہ سے پہلے آجائے… تو شاید بہت سی تباہیوں سے کائنات محفوظ ہو جائے

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 41(محبتیں)

انسان زندگی میں کئی محبتیں کرتا ہے. کچھ ہمدردی میں, کچھ دلچسپی میں, کچھ لوگ ویسے ہی اچھے لگتے اور کچھ کو ضد بنا کر چاہا جاتا ہے. ہر ایک کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے

یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ بندہ جب شدت پیاس سے نڈھال ہو تو مختلف جگہوں سے پانی پی لے. مگر زندگی کی حقیقت یہی ہے کے ہر نل کو اپنا نہیں بنایا جاسکتا. مگر جب ایک مستقل نلکا آپکے حصے میں آ جائے

 تو جگہ جگہ کے جوہڑوں تلابوں اور نلکوں کی ضرورت نہیں رہتی. پھر ساری عمر اسی کی محبت سے خود کو سیراب کریں…. یہی حاصل چاہت ہے اور رشتے کی خوبصورتی بھی

مصباح چوہدری

Leave A Comment