Misbah Chaudhary
Motivational Lines
Admin  

Motivational Columns By Misbah Chaudhary (Episode 31 to 36)

Some lines of this episodes have also been uploaded to my Facebook group and I am the owner of this episodes. This episode is being uploaded on this website with my permission. Now I want to upload this episode on google.

قسط نمبر: 31(میرے پاوں)

میرے پاوں کے بہت پاس روشنی محسوس ہوئی. غور کیا تو جگنو تھا…. ہائے یہ ننھا سا چاند زمین کی آغوش میں سستا رہا ہو شاید..اسی خیال میں ابھی چند قدم ہی آگے بڑھی کے میرے سر کے برابر وہی روشنی چمکنے لگی

 اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے بجلی کے اتنے بلبوں کے درمیان وہ ننھی روشنی اپنی شناخت لیے سب سے الگ مگر سب سے خاص لگ رہی تھی. میں نے یہ منظر شاید کئی سال بعد دیکھا تھا. بچپن میں رات کو ہمارے گھر کی کیاری میں جب جگنو آتے تو کتنا خوش ہوتے تھے

 ہم. ساری بتیاں بجھا کے صرف انکو دیکھنا بہت مسحور کن احساس تھا…مگر پھر نہ جانے یہ ننھے کمکمے کہاں کھو گئے..ہم بڑے ہوگئے… ہماری لَسٹ نے ان حشرات پہ زمین بہت تنگ کر دی ہے اور اب یہ ناپید ہوتے جا رہے ہیں..شاید چند سالوں بعد کسی کو وہ جگنو یاد بھی نہ رہے جو رات کی تاریکی میں بھٹکے ہوؤوں کو راستہ دکھایا کرتا تھا

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 32(زمانہ)

تمھیں کیا لگتا ہے زمانہ جو مجھ میں بوئے گا میں اس شر کے بیج کو اپنی خیر کی محبت کے پانی سے سیراب کر کے چاہت کا درخت بنا دونگی؟.نہیں ایسا کہاں ہوتا ہے رشتوں کی کرختگی سورج کی گرمی سے زیادہ گرم ہوتی ہے جانے والے اکیلے نہیں جاتے

ہماری ذات کے وہ حصے بھی لے جاتے ہیں جن میں کسی کو رکھا جا سکے جیسا کے بھروسہ, شفقت, اپنائیت, محبت, اور مان رکھنا. پیچھے رہ جاتا ہے تو خالی پنجرہ جہاں ہر اگلا آنیوالا قیام کی نیت سے ٹھہر بھی جائے

 تو اپنی ہی آواز کی گونج اسکی سماعت چھیننے لگتی ہے. بظاہر سیراب اندر سے صرف سراب ہوتا ہے آنے والا پانی کی ایک ایک بوند کو ترستا ہے مگر یہاں زندگی کے کوئی آثار نہیں ملتے… کچھ لوگ ایسے آسیب زدہ دلوں سے بھاگنے کی کرتے ہیں جاتے ہوئے گلہ یہی ہوتا ہے کے کسی کی سزا کسی اور کو کیوں؟ایسے بدبخت کہاں جانیں کے سورج بھی زمین سے قربت بڑھا دے تو اسکی ساری نمی چھین لیتا ہے

 ایسے میں چاند کی چاندنی معنی نہیں رکھتی. پھر انسان بھی تو مٹی کا پتلا ہے کسی کی بیوفائی کا سورج اسکی نمی چھین لے تو اسکے پاس بنجر لہجوں کے سوا کیا رہ جاتا ہے؟؟ اسکے برعکس کچھ لوگ ٹھہر جاتے ہیں

 بنجر زمینوں کو محبتوں کے پانی سے سیراب کرکے چاہتوں کی نئی فصل بوتے ہیں اور پھر وصل کی چھاؤں میں بیٹھ کے عقیدتوں کے جنگل کو بڑھتا دیکھتے ہیں… یہی لوگ محبت کے وارثوں میں سے ہیں

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 33(لفظوں میں طاقت)

لفظوں میں بڑی طاقت ہوتی ہے جبھی تو انکے جال میں الجھے لوگ ساری زندگی سلجھ نہیں پاتے. کبھی یہ ریشم کے جیسے نرم اور گلاب کے جیسے خوشبودار ہوتے ہیں جنکی مہک سے ساری فضا معطر ہو جاتی ہے

 اور کبھی خار کے جیسے نوکیلے کہ جس دامن سے لپٹ جائیں اسے تار تار کر دیتے ہیں. کبھی جانے والوں کے قدموں سے زنجیر کی مانند لپٹ جاتے ہیں اور انسان اگلا قدم نہیں اٹھا پاتا اور کبھی یوں دھکا مار کے نکال باہر کرتے ہیں 

کہ دیکھتے بھی نہیں کوئی کہ دل میں کھڑا ہے کہ گھر میں. کبھی تسبیح کے دانوں کے جیسے پاکیزہ ترتیب دار الفاظ اور کبھی باسی ہار کے بکھرے پھولوں سے بوسیدہ الفاظ. انکا ہر روپ نرالا ہے

 بانٹنے پہ آئیں تو یوں محبتیں بانٹیں کہ عقل کو حیران کر دیں کاٹنے پہ آئیں تو زخمی کر دیں کے مرہم بھی کام نہ کرے. انسان ساری زندگی الفاظ کی بھول بھلیاں میں گزار دیتا ہے پھر جا کہ اسے الفاظ کی حرمت کا احساس ہوتا ہے کہ یہی تو ہیں جس نے اسکی آواز کو مفہوم بخشا ورنہ معنی کے بغیر آواز بے مقصد شور کے سوا کچھ نہیں

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 34(زندگی)

زندگی میں کچھ نہ بن پاؤ تو کسی شاعر کا ادھورا عشق بن جانا وہ لفظ لفظ سینت کر تمھیں دیوان کر دے گا….یہ وصف اسی کو حاصل ہے کے تمہاری وفا کو گلاب کی پتیوں سے تشبیعہ دے کسی حسینہ کے کا گجرا کر دے..یا ماتھے کا جھومر

اور تمہارے قرب کی خواہش کو کسی نوبیاہتا جوڑے کی خواب گاہ

مگر ٹھہرو…  زرا سن لو

تمہاری بے وفائی کو وہ یوں لفظوں میں ڈھالے گا

تم سے منسوب سبھی جذبے اچھالے گا

اپنے سبھی آنسو… کئی آنکھوں سے نکالے گا

محبت کی میت کو..بنا غسل دیے.. کفن کے بندھنوں سے باہر

وفا کے ساحلوں کے پار

.یوں لٹکا دے گا

ہر آنیوالے کو تمہارا نسب سنا دے گا

اپنے دکھ کے لمحے کو وہ بڑا وافر لکھے گا

تمہاری بیوفائی میں مومن کو کافر لکھے گا

محبت کی تربت کو پاوں کی دھول لکھے گا

بن وفا کے زندگی, یہی اصول لکھے گا

زندگی میں کچھ نہ بن پاو تو

کسی شاعر کا ادھورا عشق بن جان

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 35(کالا رنگ)

کہتے ہیں کالا رنگ بڑا جاذب نظر ہوتا ہے… شاید ایسا اس لیے ہے کہ اسکی سیاہی میں باقی تمام رنگ اتنے پھیکے پڑ جاتے ہیں کے دکھائی تک نہیں دیتے…. تبھی تو شاعر اسے ہجر کا رنگ بھی کہتے ہیں…ایسا ہجر کے جس کے بعد وصل کا کوئی لمحہ خواہش وصل کی تسکین نہیں کر پاتا

 کائنات کا ہر رنگ ملکر بھی زندگی رنگین نہیں کر پاتا…ہاں کوئی محبت سے بھرا ایک صادق جذبہ اور پرخلوص دل اس سیاہی کو روز روشن میں بدل سکتا ہے. انسان کو چاہیے ہی کیا ہوتا ہے..چند خلوص بھرے الفاظ…. ہاتھ تھام کے ساتھ نبھانے کا کوئی وعدہ… رونے کے لیے کندھا

 اور ہنسنے کے لیے کسی کی مسکراہٹ کا حوالہ.. ایسا ایک بھی انسان ساتھ ہو تو رنگوں کے اس قبرستان سے زندگی سے بھرا ایک ایک رنگ نکھر نکھر کے نکلے

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 36(زبان)

کچھ برملا اقرار انسان کی زبان اور اسکے جذبوں پہ ہمیشہ کے لیے قفل کا کام کرتے ہیں کسی نابینہ کی طرح کیا جانے والا بھروسہ ہمیشہ کے لیے بینائی چھین لیتا ہے. دکھ الہام کی طرح دل کے پنوں پہ مسلسل اترتے رہتے ہیں

 اور وقت کا زہر لمحہ با لمحہ نسوں میں سرایت کرتا کئی رشتوں, بھروسوں, چاہتوں اور دوستیوں کی لالگی کو موت کی نیلگی سے ہمکنار کرتا جاتا ہے. انسان بے بسی سے سب ہوتے دیکھتا ہے اور چاہتے ہوئے بھی تریاق نہیں کرتا….شاید یہی اذیت کی وہ حد ہے جہاں خود کی بے حد ضرورت ہوتی ہے.مگر ہم خود کے لیے بھی میسر نہیں ہوتے

مصباح چوہدری

Leave A Comment