Motivational Columns
Motivational Lines
Admin  

Motivational Columns By Misbah Chaudhary Episode 23 to 30

Some lines of this episodes have also been uploaded to my Facebook group and I am the owner of this episodes. This episode is being uploaded on this website with my permission. Now I want to upload this episode on google.

قسط نمبر: 23(اے رقیب جاں)

محبت کبھی بھی اتنی پھسپھسی اتنی بے رنگ تو نہ تھی…آجکی محبت تو بچے کے اس کھلونے کے جیسی ہے جو ضد کر کے حاصل کر لیا جاتا ہے…مگر جلد ہی دلچسپی ختم ہونے پہ اسکو کسی معیوب سیارے کی طرح کہکشاں دل سے نکال پھینکا جاتا ہے

سنو! کردار اخلاق اور عزت و وقار سے خالی یہ چاہتیں محبت کی قبر کا وہ پھول ہیں

کے جسکی خوشبو

ناک کے نتھتوں میں گھر کر لے تو

آدمی آدمی نہیں رہتا

عورت کی حیا اور مرد کی وجاہت کی قاتل یہ محبت

عصر حاضر کی وہ سچائی ہے جس سے آپ یا میں منہ نہیں پھیر سکتے

محبت کے اجزا کو الگ الگ کر کے.. جسم کی منڈی میں علیحدہ علیحدہ ریٹس پہ بیچا جاتا ہے…. عزت و وقار سے عاری یہ محبتیں آج بھی محبت کو ترس رہی ہیں….. جیسے اکھیاں بن ساون کے آپ ہی آپ برس رہی ہیں

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 24(انسان)

عصر حاضر کا انسان بھی عجیب ہے اللہ کے احکامات پہ عمل درآمد چھوڑ کر صراط مستقیم کی تلقین کرتا ہے. ذکرِ الہی سے منہ موڑتا ہے اور پھر خواہش کرتا ہے کے سکون بھی حاصل ہو. ناکامیوں کا رونا روتا ہے مگر حی علی الفلاح پہ کان تک نہیں دھرتا

عجیب تر ہے کے پوری زندگی اسلامی اصولوں کو خاطر میں نہیں لاتا مگر موت ایمان پہ چاہتا ہے

کیا یہ وہی حضرتِ انسان ہے..جسکو علم کی بنا پہ فضیلت دی گئی…خلیفہ کا درجہ ملا…اور تمام مخلوقات پہ اشرف ہوا….کیا صاحب علم ایسا احمق بھی ہو سکتا ہے

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 25(بارش)

اس بچے کو بارش میں بھیگتا دیکھ کر نہ جانے کہاں سے…. ماضی کے دریچوں میں مسکراہٹوں کے پھول لیے کچھ سنہری یادیں آ کھڑی ہوئیں…. وہ بارشوں میں کرکٹ کھیلنا…. پانی سٹاک کر کے اس میں جمپ کرنا

 اور اس سے پیدا ہونے والے ارتعاش کو لہروں کا نام دے کر ان میں تیزی پیدا کرنا….اور پھر ان لہروں کو دیوار سے سر پٹخ کے دم توڑتے دیکھنا…. تب تو یہ سب فقط ایک کھیل تھا…مگر اب سمجھ آتا ہے کے شاید یہی زندگی کی حقیقت ہے

اور زندگی میں جنم لینے والی تمام خواہشات کی بھی… کسی شاک کے زیر اثر تخلیق ہونا اور پھر کہیں ٹکرا کے انجام کو پہنچ جانا.بارشوں کے موسم میں…بھیگی بھیگی سوچیں

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 26(زخم)

تم نے کبھی وہ زخم دیکھے ہیں جو بظاہر مندمل ہونے لگیں مگر اندر ہی اندر ناسور بنتے جائیں؟؟؟؟ یہ عارضی ٹھکانے بھی انہی زخموں کی طرح ہوتے ہیں دیکھتے ہی دیکھتے پورا وجود کھا جاتے ہیں

جذبات احساسات بھروسہ محبت سب ان زخموں سے پیپ اور گندے خون کی طرح بہہ جاتا ہے. لوگ گھن کھانے لگتے ہیں ایسے مریضوں سے…جلوتوں کی چادر لیے نفس کے گھوڑے پہ سوار یہ جن وادیوں کی سیر کرواتے ہیں 

وہ احمقوں کی جنت کے سوا کچھ نہیں ہے…..مگر ہائے بھولے لوگ…کسی فیری لینڈ کی طرح ان گلیوں سے گزرنا چاہتے ہیں…. مگر جب آنکھ کھلتی ہے تو خود کو ارمانوں کی میت پہ نوحہ کناں پا کر ہوش کھونا چاہتے ہیں…بہت رونا چاہتے ہیں….بہت رونا چاہتے ہیں

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 27(جذبات اور احساسات)

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے ہم انسان نہیں ہیں کیونکہ انسان تو آذاد ہوتا ہے. اپنی رائے میں اپنی بات میں یہاں تک کے اپنی سوچ میں بھی, مگر نہ ہماری رائے اپنی نہ بات اپنی اور نہ ہی سوچ. انسانوں کی طرح ہمارے پاس جذبات اور احساسات کی دولت بھی نہیں ہے

 شاید محبتوں چاہتوں عقیدتوں احساس اور ندامت سے ماوری ہم لوگ بس گوشت کے ٹکڑے ہیں جنہیں ہڈیوں کا فریم بنا کر اسکے ساتھ لٹکا دیا گیا ہے. تبھی تو ہر کوئی اپنی بھوک کے عوض گوشت کا ٹکڑا خریدنا چاہتا اور بیچنے والے منہ پہ میک اپ کا لیپ لگا کر اور اچھی پوشاک میں ڈھانپ کر بیچنا چاہتے ہیں

 نہ خریدنے والے کے لیے ہماری کوئی اہمیت اور نہ بیچنے والے کے لیے کوئی وقعت.پتہ نہیں ہم کیوں ہیں صرف دکھاوے کے لیے؟ یا کوئی بوجھ جو اتارنے کے لیے ہو. اپنی ناقدری دیکھنا کتنا مشکل ہے لمحہ لمحہ انسان موت کو گلے لگاتا ہے مگر نہ موت آتی ہے نہ زندگی ملتی ہے. شاید یہ سزا ہو

حاصل کی ناقدری کی. کیونکہ حاصل کی ناقدری کرتے ہوئے ہم جان ہی نہیں پاتے کہ لاحاصل تو ہمیشہ لا ہی رہتا ہے. اور پھر یہ لا زندگی کے آگے لگ جاتا ہے ہر خوشی ہر سکھ اور ہر سکون کے آگے لگے فل سٹاپ کی طرح

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 28(مالک)

وہ جو مالک ہے ناں..بڑا بے نیاز ہے. کبھی کبھی وہ دکھ دینے والوں کو یوں سر راہ سامنے لا پٹختا ہے کے انسان خود حیران ہوجائے.. انکے کردار کی گرہیں کھول سامنے رکھتا ہے…کے لے اب بتا.. لے لے بدلا… بہتان والوں کی لٹیا بیچ چوراہے پھوٹی پڑی ہے اب توں صرف ایک اعشارہ کر دے

 ایک آواز لگا اور سارے جہان میں رسوا کر دے…. نفس کا دنبہ ایسے میں خوب شیر ہوتا ہے……. کتنا مشکل ہے..اسکو زیر کرنا.. کسی کا کوئی راز پا لینا جسکو وہ خود چھپائے مگر اللہ عیاں کرے…میں مان گئی سبکی باریاں مقرر ہیں..وہ بھی اسی عذاب سے گزرتے ہیں.. توں نے ہمیشہ کرم کیا…بچا لیا..میرے مالک توں پردے رکھنے والا ہے..ہم انسان تو اتنا بھی نہیں سہہ سکتے

  یہ بوجھ بڑا بوجھ ہے کسی دشمن کا راز راز رکھنا….بیشک تیری ذات ہی پردے ڈالنے والی ہے…. سب کے پردے رکھنا..اور سبکو رسوائی کے عذاب سے محفوظ رکھنا. آمین

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 29(جھیل کے پانی)

دیکھو جھیل کے پانی میں جھلملاتا چاند کا عکس, باتیں کرتی خاموشی, لہروں کی سرگوشیاں…اور میرے دھیان کی طرب گاہ میں تمہارا وجود مسلسل …..کیسی ستم ظریفی ہے

 کہ میری روح کسی ماہی بے آب کی مانند ہمیشہ تمہاری جستجو میں رہتی ہے….ایسا لگتا ہے تمہاری محبت مجھے ازل سے ودیعت کر دی گئی ہے….. اور اب یہ محبت میرے لیے رمز انا ہے رمز فنا اور رمز بقا بھی

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 30(ہم انسان)

ہم انسان بڑے خود غرض ہوتے ہیں.. رشتوں میں ملکیت کا احساس ہمارے لیے جاگیروں سے کہیں بڑھ کر ہوتا ہے

ہم جب کسی کو اپناتے ہیں تو محبت کی کتابوں پر وجدان کی روشنی میں چاہت کے قلم سے پہلا جملہ “تم میرے ہو” تحریر کرتے ہیں… اور پھر  چاہتے ہیں کے اس ساعت دلفریب سے انفینیٹی کے آخری لمحے تک. کہ جس لمحے چاند و سورج اپنے مدار میں نہ رہیں

زمین پھر سے کسی بگ بینگ کا شکار ہو جائے اور انسان فہم کی حدوں سے پرے شعور و لاشعوری کے بوجھ سے آذاد ہو جائے “تم فقط میرے رہو

مصباح چوہدری

Leave A Comment