Motivational Columns
Motivational Lines
Admin  

Motivational Columns By Misbah Chaudhary Episode 20 to 22

Some lines of this episodes have also been uploaded to my Facebook group and I am the owner of this episodes. This episode is being uploaded on this website with my permission. Now I want to upload this episode on google.

قسط نمبر: 20(معاشرے)

مجھے خوف آتا ہے اس معاشرےسے جہاں سوچ منافقت کی چادر میں لپٹی ہے رشتے دوغلے پن کی آغوش میں پنپتے ہیں اور لوگ سجدے بھی اپنی ضرورت کے قدموں پہ کرتے ہیں ادب کے نام محبوباؤں کے قصیدے بیچے جاتے ہیں شاعری جام چھلکاتی ہے اور نوجوان نسل کا ہر پسماندہ عاشق اس مے سے اپنی پیاس بجھاتا ہے

 اگر اس معاشرے کی منظر کشی کروں تو دل چاہتا ہے ایک ایک لفظ کے کپڑے نوچ پھینکوں برہنہ لفظوں سے معاشرے کی عبار لکھوں اور ان سارے حاجیوں کو بیچ چوراہے پھانسی دوں جنکو لفظوں کی برہنگی پہ اعتراض ہوتا ہے

کبھی سوچا ہے جن محبتوں کو اپنی نظموں کا عنوان بنا کر اپنی تحاریر میں وجدان بنا کر پیش کرتے ہو اس معاشرے میں اسکی حقیقت کیا ہے؟ وہ معاشرہ جہاں نکاح پہ پابندیاں لگا کر اسکو پچیدہ کر کے حالات کے ٹھیک ہونےاور آلات کے خراب ہونے تک ملتوی کر دیا جاتا ہے مگر محبت کو کھلا چھوڑ دیا جاتاہے. پہلے اسکی پاکیزگی کا چارہ ڈال کر شکار پھنسائے جاتے ہیں

 پھر تبرکات کی طرح چوما جاتا ہے اور آخر میں جسم کا دروازہ کھول روح تک کے سفر کا خواب دکھایا جاتا ہے. اسی پاکیزہ محبت کا شاہکار انسانوں اور جانوروں کے بچے کوڑے ڈھیروں پہ ساتھ پڑے ملتے ہیں. تم ہی کہو میں ان ننگے حقائق کے بیان کے لیے اپنے لفظوں کو کونسے کپڑے پہناؤں؟؟؟ وہ معاشرہ جہاں انسان اتنا ہی خوفزدہ ہے جتنا کسی جنگلی کے جھنڈ کے نظر آنے پہ ہوتاہے 

وہاں میں حوصلہ افزائی کے بول کیسے لکھوں؟ جس معاشرے میں بچیاں اور بچے نفس کی تسکین کا شکار ہو کر ننگے کھیتوں میں ملتے ہیں میں کونسا برقع پہناؤں اپنی تحاریر کو؟ وہ معاشرہ جہاں گالی کا آغاز ماں یا بہن سے ہوتا ہےمیں قلم میں کونسی تہذیب لاؤں؟ جہاں طوائف کا نام لینا شرافت کی توہین ہے لیکن اسکے کوٹھے آباد رکھنا مقصد حیات ہے اس معاشرے کی غیرت کو ماپنے کے لیے میں پارسائی کا کونسا پیمانہ ڈھونڈوں؟

چلو میں مان لیتی ہوں میرے لفظ ننگے ہیں..میری سوچ بدچلن ہے میرا قلم بے حیا ہے, میرا عمل جاہل ہے. میرا فہم بد تہذیب ہے اور میرا علم ناقص ہے تو تم ہی کہو میں اس معاشرے کو کن لفظوں میں بیان کروں جہاں دولت عزت کا معیار متعین کرتی ہے. جہاں کتابیں مضبوط جلدوں میں مگر انسان کمزور لباسوں میں پھرتے ہیں. جہاں علم وسیلہ روزگار کے سوا کچھ نہیں

 جہاں میتیں ناخداوں کے ہاتھوں پامال ہوتی ہیں. جہاں لڑکیاں سپروائزروں کے ہاتھوں یرغمال ہوتی ہیں.جہاں ڈانس ثقافت ہے لباس تہذیب ہے مگر جسم ضرورت ہے. جہاں اولادیں وہ ناپاک نطفے ہیں جو عیاشی کے لمحات کے ثمرات کے طور پہ ملے. جہاں تمام ڈگریوں اور نوکری کا حصول صرف اس لیے ضروری ہے کے لائف پارٹنر اچھا مل جائے گا. جہاں غریب بہن بھائی کے جنازے میں شرکت باعث شرمندگی ہے 

مگر امیر کے کتے کا پرسا باعث شرف. جہاں محبت کو اسطرح بیان کرنا کے سب متوجہ ہوں انکے دل گدگدائیں, محبوب کی شان میں قصیدے دہرائیں اسکے انگ انگ کو پھول بہار چاند سب سے تشبیعہ دیں وہ جائز ہے مگر اسی محبت میں اترنے والے کپڑوں کا تذکرہ حرام ہے

تم ہی کہو میں اپنے لفظوں کے لیےوہ پردہ کہاں سے لاؤں جو ننگی حرکتوں کو بیان کر سکے؟؟؟؟ تم ہی کہو

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 21(ایک وہ دن تھا)

سر ورق..ایک وہ دن تھا جب ان دونوں کی تصویر بھی میرے سامنے آجاتی تو میرے ہاتھ کانپنے لگتے, آنکھیں بن موسم برسات کی جھڑی لگا لیتیں اور دل کی دھڑکن اپنی لے بھول کر مدھم پڑنے لگتی. دن کے چوبیس سے اٹھارہ گھنٹے آنکھوں کا پانی خشک نہ ہوتا. نیند سکون سب کہاں چلا گیا تھا کچھ پتہ نہیں چلا

 پھر اللہ نے تھام لیا. اسے ترس آگیا مجھ پہ, وہ باتیں کرنے لگا مجھ سے. قرآن خود کو ظاہر کرنے لگا نمازوں میں اللہ سامنے بیٹھنے لگا. صبر آنے لگا. اللہ نے فرما دیا کے وہ بھی اسی آگ میں جلیں گے اور میں نے مان لیا.معاملہ اسکے سپرد ہوگیا اور اس نے ایسے زخم بھرے کے وہ میرے سامنے ہوتے ہوئے بھی میری نظر سے کوسوں دور رہے. کوئی فرق ہی نہیں پڑا.اور جناب کی تصویر میرے دل میں ہلچل تو کیا مچاتی میری نظر شناخت سے بھی قاصر رہی

نام پڑھا تو یاد آیا کے اسکے ہم ناموں سے بھی کبھی پیار ہوا کرتا تھا اور آج اسکے شہر اسکی ذات کے لوگوں سے بھی گھن آتی ہے.. یوں بے وقعت ہوئے جو مالک جاں ہوا کرتے تھے.دو دوست.جنکی وجہ سے دوستی محبت اعتماد بھروسہ یقین سب شک کی آغوش میں جا گرے.کسی کے خالص جذبات کو ناخالص کرنے والے..محبت تودور اب نفرت بھی نہیں رہی. الحمداللہ

لکھنے کا مقصد صرف یہ تھا کے زندگی میں ایسے دوست سبکو ملتے ہیں ایسی محبتیں سب کی منتظر ہوتی ہیں اور پھر جاتے وقت نہیں لگتا انہیں…خود کو ہلکان نہ کریں آگے بڑھیں اللہ پاک کا ہاتھ تھام کے…زندگی بغیرتوں کے لیے رونے کا نام نہیں ہے کسی غیرت مند کے لیے ہنسنے کا نام ہے..خود کی سنیں…..خود کو تھامیں… خوش رہیں…اپنے لیے اپنوں کے لیے

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 22(محبت)

تم نے کبھی کتابوں کے باہر محبت کو پڑھا ہے؟ یہ کہانیوں اور افسانوں سے یکسر مختلف ہے. محبت ناں پانے کے جنون سے آذاد ہو سکتی ہے اور نہ کھونے کے خوف سے. یہ وہ صحیفہ نہیں جسے عقیدت کے غلاف میں لپیٹ کر پرچھتی پہ سنبھال کے رکھ دیا جائے. محبت تو قربِ جاناں کی خواہش ہے

 قرطاس پہ بکھری محبت جب محب کا ہاتھ تھامے چلتی ہے تو منزل صرف خواہش وصل کی تکمیل ہوتی ہے. کیسے ممکن ہے جسکو چاہا جائے جسم اس سے دوری اختیار کرلے. یہ تو نس نس میں دوڑنے والی رطوبت ہے

 جو محبوب کی صورت لہو میں رہتی ہے. خدا معلوم لوگ کیونکر جسم کے بغیر روح تک پہنچنے کا دعوی کرتے ہیں. روح تو انہی بند کواڑوں کے پیچھے بیٹھی محبوب کی منتظر رہتی ہے. وہ محب ہی کیا جو محبوب کے سامنے ہوتے ہوئے جسم دور رکھ سکے

 یہ حقائق کتابوں میں درج نہیں کیے جاتے کیونکہ انکی تلخی شاید کسی کی محبت کا منجن نہ بکنے دے…. مگر یہی حقیقت ہے..محبت آسمانی باتوں سے اتر الفاظ کا روپ دھارے ملاپ کا باعث بنتی ہے اور پھر جسم کے رستے سے مقامِ دل میں اترتی ہے….مقامِ دل جہاں کہیں روح کی قیام گاہ بھی ہے

مصباح چوہدری

Leave A Comment