Motivational Columns
Motivational Lines
Admin  

Motivational Columns By Misbah Chaudhary Episode 15 to 19

Some lines of this episodes have also been uploaded to my Facebook group and I am the owner of this episodes. This episode is being uploaded on this website with my permission. Now I want to upload this episode on google.

قسط نمبر: 15(تمھیں کیا لگتا ہے)

تمھیں کیا لگتا ہے یہ آنکھیں محض خواب دیکھنے کے لیے ہیں یا دماغ کے دروازے پہ کھڑے یہ دربان ہر حرکت کی جانچ پرکھ کرتے ہیں؟ نہیں یہ آنکھیں تو آذاد نظموں کا قافیہ ہیں, یہ تپتے صحرا میں سمندر کی التجا ہیں

 یہ متناہی دکھنے والے جگنو لامتناہی سے پردہ کھینچنے کے لیے ہیں, تمھیں کیا خبر کے یہ آنکھیں شخصیت کی آئینہ دار ہیں, درحقیقت یہ آنکھیں ہمارے اندر کی طاقت کا مظہر ہوتی ہیں

 کبھی ان سے محبت کے وہ چشمے پھوٹتے ہیں کے ہر دیکھنے والا سیراب ہو جاتا ہے, اور کبھی ایسا قحط کے کوئی اک نظر دیکھ کے تڑپ اٹھے, ہاں یہ آنکھیں ہی ہیں جو دشمن کی آنکھ میں دیکھ کے ایسی دھاک بٹھا دیں کے دشمن کا ہوش اڑ جائیں اور یہی آنکھیں کسی عاشق سے مل جائیں تو کائنات رک جائے.. انہی آنکھوں کا دیکھنا ایسا کے کوئی دیکھے بنا نہ رہ پائے اور انہی آنکھوں کا دیکھنا کے کوئی دیکھنے کے قابل نہ رہے

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 16(ہم لوگ بھی عجیب ہیں)

ہم لوگ بھی عجیب ہیں کوئی ہمارے جذبات احساسات ریاضت چاہت ہر چیز ہمارے منہ پہ مار کے چلا جائے تو بھی نجانے کیوں ہم یہ غلط فہمی پال لیتے ہیں کے جانےوالوں کو ایک دن احساس ضرور ہوگا پھر وہ لوٹ کے ہمارے پاس ہی آئیں گے

کتنے احمق ہوتے ہیں ہم سمجھ ہی نہیں پاتے کے اگر انہیں لوٹ کر ہی آنا ہوتا تو چھوڑ کے تھوڑی جاتے؟ وہ پچھتاوے جنکو امید کی کرن بنائے کسی کے ذات سے وابستہ کر کے ہم بنا پلکیں جھپکائے نجانے کتنے ساون گزار دیتے ہیں کسی کو انکا ادراک تک نہیں ہوتا اور ہو بھی کیونکر  ہر خالی جگہ تو بھر جاتی ہے نئے لوگ مل جائیں تو پرانے بوسیدہ چہرے یاد تک نہیں رہتے

  اور ہم یونہی بے سبب اپنے اہم ہونے کا وہم پالے محبت کی لاٹھی سے خود کو ہجر کی راہ پہ ہانکے رکھتے ہیں.ایسی راہ جو لاحاصل کی ہے جہاں وصل کی کوئی منزل نہیں بس تنہائیاں, اداسیاں اور جگ ہنسایاں ہیں.اور انسان کو ننگے پاؤں اسی راستے پہ چلتے دکھ کی منزل کو پانا ہے, خود کو مٹانا ہے اور بہت مسکرانا ہے

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 17(زندگی)

پتہ ہے زندگی بہت سے راستوں کا جال ہے. ہر راستے کے ثمرات اور اذیتیں الگ ہیں مگر طوالت ایک جتنی ہے منزل بھی ایک ہی ہے.انسان ساری زندگی کوستا ہے اپنے انتخاب کو اپنے راستے کے سوا ہر راستہ اسے آسان دکھائی دیتا ہے. ہاں ہوتا ہے راستہ آسان وہ راستہ جہاں ہمسفر مخلص ہو. محبت عزت احترام اور ساتھ نبھانے کی چاہ راستوں کی مشکلات کم کر دیتی ہے. نہیں درحقیقت مسافت کم نہیں ہوتیں بس زاویہ بدل جاتا ہے انہیں دیکھنے کا

اور ایک دوسرے کا بھروسہ راستوں کی کڑی دھوپ میں محبتوں کی چھایا کا کام کرتا ہے. مگر جب ساتھ چلنے والے ساتھ چھوڑ جائیں تو لمحوں کا سفر صدیوں کی مسافت میں بدل جاتا ہے. دسمبر میں جون کی گرمی جھلسانے لگتی ہے. اور کبھی جولائی میں لہجوں کی یخ بستگی خون جما ڈالتی ہے. بہاروں میں پت جھڑ کے ڈیرے چمن کی شگفتگی کا راستہ روکے کھڑے ہوجاتے ہیں. اور انسان ان ساکت لمحوں میں منجمند سا ہو کہ رہ جاتا ہے

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 18(چند سال پہلے)

ابھی چند سال پہلے کی بات ہے یہاں سر سبز کھیتوں کے سوا کچھ نہ تھا مگر اب کھیت انسانی جنگل میں بدل رہے ہیں. شہر تو شہر قصبوں اور گاؤں میں بھی رہائشی کالونیوں کا ٹرینڈ زور پکڑ رہا ہے. لوگوں کو لگتا ہے یہ ایک منافع بخش کاروبار ہے

 لہذا آباؤ اجداد کی محبت سے بسائی زمینیں جو نہ جانے کتنے لوگوں کا پیٹ بھرتی تھیں اب حرص کا شکم سیر کرنے کو ناکافی ہیں. ایک سیزن کی فصل کاشت نہ ہونے سے کم و بیش 60 من گندم اور 35 من چاول کا نقصان ہے. اگر صرف دوفصلوں کو شامل کریں تو ورنہ سال میں مکئ کے کم از کم تین دور ہوتے ہیں

 اس لحاظ سے کئی لوگ اناج کی سہولت سے محروم ہونگے. اس بستی کو بسنے میں کم از کم 10 سال کا عرصہ درکار ہے کیونکہ کے یہ ایک فیوچر انویسٹمنٹ ہے مگر ان دس سال تک اناج کی کمی کیا ہم برداشت کر سکتے ہیں؟؟؟ اور اسی حساب سے انسانی آبادی بڑھتی رہی تو آکسیجن…غلہ..ایندھن اور پانی ہم کہاں سے لائیں گے

 آج بڑھتی ہوئی گرمی برداشت نہیں مگر درخت لگانا بھی منظور نہیں. ہر چیز سستی چاہیے مگر فصلیں ختم کرنا چاہتے ہیں….عجیب احمق اور منافق لوگ ہیں ہم..جنہیں انتھک محنت نہ کرتے ہوئے سب کچھ خالص چاہیے

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 19(لوگ)

لوگ اکثر تمہارے اور میرے تعلق کے متعلق پوچھتے ہیں اور میں لفظوں کی بھول بھلیاں میں کھو سی جاتی ہوں کوئی لفظ اس مفہوم کا نہیں ملتا جس سے وضاحت کی جا سکے. تبھی میرے ذہن میں روسی زبان کا لفظ ostyt آتا ہے اور میں حیران ہوجاتی ہوں مجھے لگتا ہے کے شاید اس لفظ کی تخلیق صرف ہمارے تعلق کی وضاحت کے لیے ہی ہوئی ہے.

اسکا مفہوم کسی نے کیا خوب واضح کر رکھا ہے کہ جس چیز کی تم برسوں خواہش کرتے رہو اسکے حصول کے لیے مارے مارے پھرتے رہو, اپنی خوشیاں, رشتے سب تیاگ کر جوگ لے لو, کوئی روگ پال لو اور جب تم اسے پانے ہی والے ہو تو تمہیں پتہ چلے کے تمہارے دل سے اسکی چاہت ہی ختم ہو گئی ہے. ہاں ایسا ہی تو ہے ہمارا تعلق…..میرے دل کے نہاں خانوں میں تم یا تم سے جڑے رشتے کے لیے نہ احساس ہے نہ الفاظ اور نہ جذبات, برف کی سل ہے جو کڑی دھوپ میں بھی یخ بستگی بڑھا رہی ہے…ٹھنڈی آگ مجھ کو جلا رہی ہے

مصباح چوہدری

Leave A Comment