Motivational Columns
Motivational Lines
Admin  

Motivational Columns By Misbah Chaudhary Episode 11 to 14

Some lines of this episodes have also been uploaded to my Facebook group and I am the owner of this episodes. This episode is being uploaded on this website with my permission. Now I want to upload this episode on google.

قسط نمبر: 11( کبھی مان لینا )

کبھی کبھی مان لینا سمجھ لینے سے بہتر ہوتا ہے. ہم سمجھ کر ماننے کی چاہ میں بہت سا قیمتی وقت ضائع کر دیتے ہیں

بہت سے لوگ جنکو ادراک نہیں ہو پاتا کے وہ محبت کے سمندر میں غوطہ زن ہوچکے ہیں وہ بھاگتے ہیں, کبھی خود سے کبھی نگاہِ محبوب سے

بھاگنے والے کیا جانیں بھنور پاؤں میں بندھے ہوں تو جتنا بھی بھاگ لیں مقدر ڈوب جانا ہی ہوتا ہے اور اسی ڈوب جانے میں عافیت ہے.

یقین جانیں محبت اگر محبت ہے تو یہ احساس ندامت کبھی نہیں ہو سکتی. یہ ہمیشہ زندہ رہتی ہے. کبھی انعام کی صورت ماتھے کا تاج بنتی ہے تو کبھی خوشبو بن کر قرب و جوار مہکا دیتی ہے. کسی پھلدار درخت کی طرح یہ ہمیشہ ساتھ رہتی ہے

ہاں اگر کوئی محبت کرنے والا ہی نا بلد ہو اسکی سچائی سے تو یہی محبت ایسا ناسور بن جاتی ہے جو کبھی مندمل نہ ہو جس سے ہر لمحہ ٹیسیں اٹھتی رہیں, یا ایسی سزا جو مسلسل ہو… جسکی اذیت کبھی کم نہ ہو

محبت کبھی نہیں مرتی

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 12( سب ایک سے نہیں )

ہم سب ایک سے نہیں ہوتے, ہمارے لیے رشتوں کے مطلب بھی مختلف ہوتے ہیں. ہر لڑکی کی خواہش اچھا گھر, بینک بیلنس یا گاڑی نہیں ہوتی کچھ ایسی بھی ہوتی ہیں جنہیں اچھا لگتا ہے

مٹی کے کچے گھروں کو سنوارنا وہ اپلے تھاپتے, چارہ کاٹتے, پھونکنی سے لکڑیاں سلگاتے, سینکنے سے روٹیاں سینکتے تو عمر گزار سکتی ہیں مگر کبھی گوارہ نہیں کرتی کے انہیں فقط ایک جسم سمجھا جائےایک ایسا جسم جس میں نفس کے جانور کو پناہ مل سکے

انکے لیے شوہر خدا کا روپ ہوتا ہے مگر, اگر کوئی شادی کے نام پہ فقط جذبات کی آبیاری چاہے تو انکے لیے برداشت کرنا مشکل ہوجاتا ہے تب وہ چھوڑنے میں وقت نہیں لگاتیں… قدم بہک بھی جائیں تو کوئی غلاظت دل تک نہیں پہنچ پاتی وہ پاک رہتا ہے یہی وجہ ہے کے ایسی لڑکیاں رو دیتی ہیں. جو بھی ملا ہو کھو دیتی ہیں

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 13( موضوعات )

جن موضوعات کو شجر ممنوعہ کی طرح الفاظ کی پہنچ سے دور رکھا جاتا تھا اب ان پہ بات ہونے لگی ہے.وہ شریف ذادیاں جن کے منہ سے طوائف کا نام ہتک عزت مانا جاتا تھا اب کھل کے اس پہ بات کرتی ہیں حقائق کو جانچنے اور مسائل کو اجاگر کرنے کی جستجو اب سر چڑھ کے بولنے لگی ہے

وہ لوگ جو منہ میں دہی جمائے بیٹھے تھے اب زبان کے سوئے سے اخلاقیات پہ جمی برف کو توڑنے لگے ہیں

ایسا لگتا ہے وہ دن دور نہیں جب زبان کی پارسائی اپنی موت آپ مر جائے گی.وہ لوگ جو چہروں پہ غلاف چڑھائے عقیدت کی پڑچھتیوں پہ جلوہ افروز ہیں زمین بوس ہو جائیں گے

ہو سکتا ہے حشر سے پہلے اک حشر بپا ہو جائے, جہاں ظرف اور سوچ کے بونے اپنے خودساختہ لمبے قد کے ساتھ پیش ہوں میزان سجائے جائیں اور عدل کا پھندہ سب کی گردنوں کے گرد تنگ ہوتا جائے. کئیوں کے سانس اکھڑیں کئیوں کی زبانیں منہ سے باہر لٹک رہی ہوں اور کئی اپنے خالی کشکولوں کے ساتھ آنکھوں میں ندامت کے ساون لیے در بدری کا جہنم کاٹ رہے ہوں

جو بھی ہو مگر اب بند کمروں میں ٹھنڈی ہوا کے جھونکے آنے لگے ہیں اب نعروں پہ بات نہیں ہوگی دلائل سے سامنا ہو گا. حیا کی تسبیح پہ بے حیائی کے منتر نہیں ہونگے اور نہ مسجد کا دروازہ شرافت بانٹے گا. ماتھے کا محراب ہو یا گوری کا شباب کچھ بھی انصاف کے دائرے سے باہر نہیں جائے گا

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 14( ماں )

ماں اچھا لگتا ہے جب وہ مان سے میرا ہاتھ تھامتا ہے اسکا لمس میرے جسم سے ساری تھکاوٹ کھینچ لیتا ہے اسکی باتیں مجھے صحرا میں کسی سائبان کا پتہ دیتی ہیں اور اسکی قربت زمانے بھر میں خاص کر دیتی ہے

اسکے ساتھ کھانا کھانے جانا میرا پسندیدہ مشغلہ ہے اسکی ایک آواز پہ دل لبیک کہتے بھاگ اٹھتا ہے. خود کو صاف ستھرے لباس سے آراستہ کیے چہرے کو ہلکے میک اپ سے جب سنوارتی ہوں تو اپنے آپ سے محبت ہونے لگتی ہے. میرے ہونٹوں کی لالی سارے چہرے پہ پھیل جاتی ہے اور دل اپنا ساز بھول کر کسی اور ہی تھاپ پہ رقص کرنے لگتا ہے.

جب سے اسکی محبت نے میرا ہاتھ تھاما ہے یہ بیگانہ شہر اپنا سا لگنے لگا ہے. اس نے وعدہ کیا ہے سمیسٹر ختم ہوتے ہی وہ اپنے گھر والوں کو بھیج دے گا اور پھر ہم ہمیشہ کے لیے مضبوط رشتے میں بندھ جائیں گے. مجھے امید ہے کہ آپ میرے جذبات کا احترام کریں گی

الفاظ کا طوفان تھم چکا تھا کال بند ہوگئی تھی. لیکن وہ رات ماں کے لیے قیامت کی رات تھی

سمجھ نہیں پا رہی تھی کے کیسے کہے ہونٹوں کی لالی دراصل جذبات کی لا ابالی ہے احساسات سر اٹھانے لگے ہیں اور جسم ہر اس بات کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جو وہ سوچنا نہیں چاہتی تھی

جوان اولاد کو ہوٹلنگ پہ غیر مرد کے ساتھ جانے سے روکنا اسکے لیے ایسا معمہ تھا جسکا کوئی حل شاید اس کے پاس نہیں تھا وہ بتانا چاہتی تھی کے کچی بھوک کی لڑکیاں کیسے آسان شکار ہوتی ہیں. اسکا دل چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کے مرد اس معاملے میں بڑا کاروباری ہوتا ہے وہ وہیں سرمایہ کاری کرتا ہے

جہاں سے اسکو منافع ملنے کی امید ہو, وہ عورت کے پیٹ کی بھوک کا سودا اپنے جسم کی بھوک سے کرتا ہے اور اگر ایک بار اسکے منہ یہ لہو لگ جائے تو کہیں نہیں ٹھہرتا وہ اپنی جیب کا آخری سکہ تک لٹا دیتا ہے. وہ جتلانا چاہتی تھی کے مرد کی صرف جیب خالی ہوتی ہے مگر لڑکی کی زندگی خالی ہو جاتی ہے.

اسکے علم میں تھا کے جب حق بات مستقبل پہ ٹال کر ناحق رشتے قابل بھروسہ ہونے لگیں تو سمجھ لینا چاہیے اعتماد ٹوٹنے والا ہے اور لڑکی کی حیثیت وقتی دل پشاوری کے سوا کچھ نہیں رہے گی وہ ماں تھی

مصباح چوہدری

Leave A Comment