Motivational Columns
Motivational Lines
Admin  

Motivational Columns By Misbah Chaudhary Episode 1 to 5

Some lines of this episodes have also been uploaded to my Facebook group and I am the owner of this episodes. This episode is being uploaded on this website with my permission. Now I want to upload this episode on google.

قسط نمبر: 1( تجربات )

یہ ایک سال شاید تجربات میں کئی صدیوں پہ بھاری تھا.جہاں کچھ انسٹرکٹرز کی خندہ پیشانی اور انٹیلیکٹ نے انکے وقار میں اضافہ کیا وہیں کچھ عالموں کو فرعون بنتے دیکھا. کچھ نئی محبتیں ملیں اور کئی مومنین کو کافر ہوتے دیکھا. دوستی کے نام پہ کم ظرفوں پہ جذبات کی سرمایہ کاری نے بڑا دھچکا دیا مگر کسی بچھڑی دوست نے پہلے سے زیادہ مضبوطی سے ہاتھ تھام کے گلے لگایا.

اس سفر میں ایک بات واضح ہوئی اپنا رہنا مضبوط کرتا ہے ہم جتنے دوسروں کو دستیاب ہوتے ہیں اتنے ہی خود سے محروم رہتے ہیں.زندگی کے سفر میں کامیابی کے لیے خود سے محبت سب سے افضل ہے آپکے سوا کوئی آپ سے محبت نہیں کر سکتا, لوگ مفادات کی خاطر جڑتے اور کام پورا ہونے پہ آپکو ادھورا کر کے چلے جاتے ہیں اور آپ احمقوں کی طرح کئی صدیاں تک دوسروں کے کیے کی سزا خود کو دیتے رہتے ہیں.

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 2( آدم بیزار لوگ )

رات کے اس پہر ہر سو موت کی سی خاموشی ہے اور ہم آدم بیزار لوگ کسی حنوط شدہ ممی کی طرح زندگی کے طابوت سے نکل کر بے یارو مددگار پھر رہے ہیں

ہماری آنکھیں وصل کی لذت چکھ ہی نہیں پائیں اور ہجر کا آسیب ان مخدوش دریچوں میں ہمیشہ سے ٹھہرا گیا ہے. ہمارا اضطراب جان لیوا ہے. یہی وجہ ہے کہ لوگ جب سکون اوڑھ کے سو جاتے ہیں ہم بے چین روحوں کی طرح جا بجا پھرتے رات کاٹ لیتے ہیں. کوئی طبیب ہماری اونگھ کو نیند کی وادی تک لے جا ہی نہیں پایا… چاند اور ستارے ہمارا مقام دیکھ کر اپنی سمتوں کا تعین کرتے ہیں

ہماری اذیت اہل علم کہاں سمجھیں گے کے ہم جس خدا کو قریب رگ گردن لیے پھرتے ہیں اس سے کوسوں دور ہیں… صدیوں کی یہ مسافت ہمارے بیچ در آئی ہے اور تا دمِ آخر شاید ہم اسی ہجر میں مارے جائیں…… ہماری موت بڑی جان لیوا ہوگی….ہم جنت و دل سے نکلے

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 3( ہم لکھنے والے )

ہم لکھنے والے بھی عجیب ہوتے ہیں لمحوں میں امیدوں کے ہل جوت کے ارمانوں کی زمین تیار کرلیتے ہیں جہاں محبتوں کے گلشن میں وفاؤں کی تتلیاں قرطاس پہ رنگ بکھیرتی پھرتی ہیں… آسمان کو زمین کی بانہوں میں سمونا اور چاند کو محبوب کے ماتھے کا جھومر بنانا ہمارے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے

.یہی وجہ کے ہماری حساس طبیعت کسی کے روکھے سوکھے لفظی اقرار سے کہاں بہلتی ہے ہمیں تو آنچل میں تارے سمونے والا وہ محبت زادہ چاہیے جسکے لفظوں میں تھکن مٹانے کی تاثیر ہو.ایسا ہمسفر جسکی موجودگی میں دکھ تحلیل ہوتے جائیں اور کسی سنہری شام کے ڈھلتے سائے, اسکے ہاتھ کا لمس اور کافی کا مگ تخیل کی ایسی وادی میں لے جائے جہاں بنفشی رنگ اوڑھے آسمان یوں چمک رہا ہو کہ کسی روشن صبح کا گمان ٹھہرے. محبت کی وادی میں عقیدتوں کی زمینوں پہ وہ ہمارا جہان ٹھہرے

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 4( وقت )

کبھی کبھی وقت اتنی تیزی سے گزرتا ہے کہ ہم سمجھ ہی نہیں پاتے دن گھنٹوں اور گھنٹے منٹوں میں بدل جاتے ہیں.حالات کا بکھیرا ایسے ہی بکھرا رہ جاتا ہے نا سمیٹنے کی ہمت ہوتی ہے نہ طاقت. وقت کی ندیا میں کسی بن پتوار کشتی کی مانند ہم بہے جاتے ہیں نہیں جانتے کے آگے بھنور ہے کہ آبشار یا پھر کوئی مگرمچھ منہ کھولے بیٹھا ہے. بس ہم چل رہے ہوتے ہیں خوشی غم دکھ سکھ ہر احساس سے انجان

بظاہر ایسا سکوت ہوتا ہے کے دل دہل جائے اور اندر شور اتنا کہ کانوں کے پردے پھٹ جائیں. ایسا لگتا ہے یہی زندگی اور موت کے بیچ کی پل صراط ہے ایسا باریک راستہ کے دکھائی نہ دے اور ذرا سی لغزش موت سے ہمکنار کر دے. پتہ نہیں کیسا وقت ہے کیسی عجلت ہے

مصباح چوہدری

قسط نمبر: 5( آیت کے ترجمے )

قرآن پڑھتے ہوئے نظر ایک آیت کے ترجمے پہ جاٹکی. میں بہت دیر تک سوچتی رہی کہ جسکو اللہ پاک اپنی یاد سے غافل کر دے تو اسکے لیے اور کیا ہلاکت ہوگی؟ مگر ہم کہاں غور کرتے ہیں ہم تو طالب دنیا میں اتنے مگن ہیں کہ ہمیں اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ آخری بار کب اللہ کا حکم مانا تھا کب اسکی بارگاہ میں حاضری دی تھی. ہم سب تو بس آرائش دنیا کے طالب ہیں

ہر ایک کو اچھے سے اچھا گھر اچھی سے اچھی نوکری اور ہر طرح کی آسائشات درکار ہیں جسکا اپنا بڑا گھر نہیں نوکر چاکر نہیں اس سے بات کرنا اسکو اپنا رشتے دار ماننا لوگ اپنی توہین سمجھتے ہیں کسی غریب کی میت کو کندھا دینے کے لیے کوئی تیار نہیں ہوتا. ہم دیکھ ہی نہیں پاتے کے اپنی آرائشی و آسائشی زندگی کی بنیاد ہم نے کتنے لوگوں کے ارمانوں کی میتوں پہ رکھی اور ہمارا دکھاوا کتنے لوگوں کو احساس کمتری میں مبتلا کرتا ہے

ہم تو بس کہہ جاتے ہیں اف کتنی گرمی ہے کتنا چھوٹا گھر ہے ایسے ماحول میں میرا تو دم گھٹتا میرے بچوں نے کبھی اتنی کم چیزوں پہ گزارہ نہیں کیا ایسی کتنی ہی باتیں جو کسی کو بھی جیتے جی لحد میں اتارنے کے لیے کافی ہوتی ہیں. مگر غور کون کرتا ہے..شہر بسائے گئے امیروں کے شہر جہاں گاڑیاں گھومتی ہیں لوگ شاہانہ انداز میں رہتے ہیں

غریب نے جس فٹ پاتھ پہ چلنا تھا اسکو تو کار کھا گئی غریب کی سائیکل چلنے کو راہ نہیں بس امیر شہر کی لینڈ کروزر کی خیر ہو اسکو چلنے میں مشکل نہیں آنی چاہیے. امیر کھا گئے غریب بھی اور انکی ضرویات بھی اور انکی ذات بھی. ہائے رے راحتِ دنیا نوکرِ شاہی کا بنگلہ مربعوں پہ پھیلاہے اور جسکے پیسوں سے تنخواہ دی جاتی جسکی خدمت کے لیے نوکری دی گئی اسکی جھونپڑی بھی انکروچمنٹ کے زمرے میں آگئی. اللہ نے منع فرمایا جنکا حکم ماننے سے وہ صاحب اقتدار بنے بیٹھے ہیں مان لو یا جان دو کی پالیسی اپنائے.یاد خدا سے غافل لوگ

مصباح چوہدری

Leave A Comment